30 جولائی 2026 - 22:17
ایران تاریخ سازی کی دہلیز پر؛ ٹرمپ کے پاس بس صرف 'ایک'  راستہ باقی ہے – 4

ٹرمپ کو دو شکستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا / ٹرمپ کو صہیونیوں نے ایسی جنگ میں پھنسایا ہے جس میں جیت ناممکن ہے /  ٹرمپ حتیٰ کہ ایک جنگ کا انتظام کرنے سے بھی قاصر و عاجز ہے، جنگ جیتنا تو دور کی بات ہے / ٹرمپ نے "اب تک کی کسی بھی چیز سے بڑا، زبردست حملہ" کرنے کی دھمکی دی اس کا فیصلہ حملے میں تبدیل نہ ہو سکا / پینٹاگون نے مئی سے جولائی تک تقریباً 160 ملین بیرل مصنوعات (تقطیر شدہ خام تیل اور جیٹ ایندھن) بیرون ملک بھیج کر خرچ کر دیں! / ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا: "ہم ان [ایرانیوں] سے بات چیت کر رہے ہیں۔" لیکن ایران نے ٹرمپ حکومت کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

چوتھی قسط:

دیوالیہ سلطنت، آخری ہچکیاں

جیسا کہ کہتے ہیں، آپ خود حساب لگا لیں: یہ صورتحال، بالکل سادہ ہے: 'امریکہ کی یہ صورت حال نا پائیدار اور غیر مستحکم ہے۔' مجھے امریکی ناول نگار ارنسٹ ہیمنگوے (Ernest_Hemingway) کی کتاب "سورج  بھی [بدستور] طلوع ہوتا ہے (The Sun Also Rises)" کا وہ تلخ پرانا جملہ یاد آیا؛ جب ناول کا ایک کردار دوسرے سے پوچھتا ہے: "تم کیسے دیوالیہ ہوئے؟" اور دوسرا کردار جواب دیتا ہے: "دو طرح سے۔ آہستہ آہستہ، اور پھر اچانک۔" ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کی رجیم پہلی (آہستہ آہستہ دیوالیہ ہونے کی) حالت سے دوسری حالت (اچانک) کی طرف آگے بڑھ رہی ہے۔

▬ قدامت پسند امریکی معاشی اور جغرافیائی-سیاسی مبصر کارل ملر (Karl Miller) (واشنگٹن ایگزامینر، مینہٹن انسٹیٹیوٹ [Manhattan Institute])، نے اس حساب کتاب میں دلچسپ تفصیلات کا اضافہ کیا ہے۔ میرے پاس ان کی ایک رپورٹ آئی ہے جو سونار 21 (لیری جانسن (Larry C. Johnson) کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے۔ ملر فاش کرتے ہیں کہ پینٹاگون نے ایک بڑی کاروائی میں، ایندھن خرید کر بیرون ملک بھیجوا دیا ہے اور لکھتے ہیں کہ یہ ایک خفیہ کارروائی ہے چنانچہ اس کے نتیجے میں، جوابدہی سے باہر ہے (جیسا کہ امریکی فوج کے بہت سے کام ایسے ہی ہیں)۔ ملر لکھتے ہیں کہ مئی سے جولائی 2026ع‍ تک، پینٹاگون نے تقریباً 160 ملین بیرل پٹرولیم مصنوعات (بشمول Distillate and Jet Fuel) بیرون ملک بھیج دیں تاکہ مغربی ایشیا میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکے۔ میں ملر کے اعداد و شمار کی تائید نہیں کر سکتا، مگر یہ کہ میں نے کوئی چیز ذکر کئے بغیر چھوڑ رکھی ہو! ان کی تحقیق اور حساب کتاب کے مطابق، امریکی جنگی مشینری نے ان ہی تین مہینوں میں تزویراتی ذخائر سے اٹھائے ہونے تیل کا 90 فیصد (یا اس سے کچھ زیادہ) حصہ خرچ کر دیا ہے۔

▬ مجھے یہ جان کر حیرت نہیں ہوئی کہ ٹرمپ، جمعہ کی رات اپنی "زبردست حملے" سے پیچھے ہٹنے کے بعد، اب ان لوگوں کے ساتھ ایک نئی جنگ بندی معاہدے کے بارے میں مذاکرات کی بات کر رہا ہے ہیں جنہیں حال ہی میں اس نے "کوڑا کرکٹ" کہا تھا۔

نجانے ٹرمپ رجیم آیکسیوس کے بغیر کرتی تو کیا کرتی؟

ایکسیوس نے اپنی ایک رپورٹ میں ٹرمپ کے حوالے سے کہا: "ہم ابھی ان [ایرانیوں] سے بات کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں ہر گذرتے دن کے ساتھ، وہ [ایرانی] زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے گولہ بارود کے ذخیرے کا تالا کھول دیا ہے اور کارروائی کے لئے تیار ہیں، لیکن ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔" "ہم نے گودام کا تالا کھول دیا ہے اور ان سے بات کر رہے ہیں" یعنی ایک ہی جملے میں دو بکواسات۔

جیسا کہ اب واضح ہو گیا ہے، ریاستہائے متحدہ نے نہ تو گودام کا تالا کھولا ہے (کیونکہ گوداموں میں اتنا کچھ نہیں ہے کہ وہ "کھول" سکے)، اور نہ ہی، یقینی طور پر، ایرانیوں سے بات کر رہا ہے؛ اس سادہ سی وجہ کی بنا پر انہوں نے [یعنی ایرانیوں نے] ٹرمپ رجیم کے ساتھ مزید کسی بھی مذاکرے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ جمعہ کی رات ٹرمپ کی پسپائی کے اعلان کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر "ہرمز لیٹر (HormuzLetter)" نامی اکاؤنٹ کی رپورٹ کچھ یوں تھی: "حملے کی منسوخی کا اعلان، ایران کی طرف سے اس ہفتے کے دوران امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی نامنظوری ـ اور اس بات کی تصدیق کے باوجود کہ ایران کسی بھی حال میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا، ـ نیز بالکل ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد، کیا گیا "کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور بڑی پیشرفت ہوئی ہے!"

نیز، یہ فیصلہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے نئے انتظامات کے بارے میں مذاکرات کے لئے ایک عمانی وفد کے تہران پہنچنے کے بعد کیا گیا، اور ٹرمپ نے وہاں بھی مزید پیشرفت کا دعویٰ کیا، حالانکہ ایران کسی بھی مذاکرات کی تردید کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: حامد حاجی حیدری، فیکلٹی ممبر، تہران یونیورسٹی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha